press releases
    May 29, 2021

    !اینگرو پولیمر کا سرکلر پلاسٹک انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کا فیصلہ

    کراچی: اینگرو پولیمراینڈ کیمیکلز لمیٹڈ کا ملک میں سرکلر پلاسٹک معیشت میں تحقیق و ترقی کو فروغ دینے کیلئے سرکلر پلاسٹک انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کا منصوبہ ہے جو ایک غیر منافع بخش تھنک ٹھینک ہے۔

    پاکستان کو پلاسٹک آلودگی کے وسیع مسائل کا سامناہے 2020میں ملک میں 3.9ملین ٹن پلاسٹک کوڑا پیدا کیا گیا اوریہ جنوبی ایشیا میں پلاسٹک بد انتظامی کی سب سے زیادہ شرح ہے۔ وقت کے انتہائی اہم مسائل کو حل کرنے کے اینگرو کے مرکزی خیال کے مطابق سرکلر پلاسٹک انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کا مقصدایک ایسے تعلیمی ادارے کا قیام ہے جو علمی تبادلہ، حکومت، کاروباری اداروں اور سول سوسائٹی سیکٹر میں باہمی تعاون کے ذریعے سرکلر معیشت کو ہموار کرے گا۔ پاکستان پلاسٹک کے مسئلے پراز سرِ نو غور کرکے معیشت میں جدّت اورروزگار کے مواقعوں کیلئے موئثر وسائل کے انتظام سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جبکہ کم پلاسٹک ویسٹ کے ذریعے ماحولیات کا تحفظ بھی کرسکتا ہے۔

    عالمی سطح پر سویڈن اور جرمنی جیسے ممالک سرکلر معیشت کو حکومتی پالیسی کا ایک اہم حصہ بناکر اس سے مختلف فوائد حاصل کررہے ہیں۔ توقع کی جاتی ہے کہ سرکلر پلاسٹک انسٹیٹیوٹ پلاسٹک خاص طورپر پی وی سی پر خصوصی توجہ کے ساتھ بلدیاتی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پر تحقیق کرے گا۔ انسٹیٹیوٹ پاکستان کو 2030تک زیرو یسٹ کے عالمی وعدوں کی تکمیل کیلئے مدد فراہم کرنے کیلئے قانون سازی اور پالیسی کیلئے مشاورت فراہم کرے گا۔اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کو حاصل کرنے کیلئے اس ادارہ کو پائیدار شہروں اور کمیونیٹیز، ذمہ دارکھپت،ما حولیاتی ایکشن، سمندری حیات، زمینی زندگی اور اہداف کیلئے شراکت دار جیسی گلوبل ڈیولپمنٹ پریکٹس کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔

    اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جہانگیر پراچہ کے مطابق اگرچہ ہرسال پلاسٹک کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے لیکن اصل مسئلہ اس کو ذمہ داری سے اکھٹا کرنا اور تلف کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پائیدار ترقیاتی اہداف تک پہنچنے کیلئے مقامی علم اور بہترین عالمی طریقوں کی تخصیص کی ضرورت ہے۔ اپنے قیام کے بعد سرکولر پلاسٹک انسٹیٹیوٹ ہمارے وژن زیرو ویسٹ فیوچر حاصل کرنے کی سمت ہمیں ایک قدم مزید قریب لے آئے گا۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد سرکولر معیشت کو فروغ دینے، ویسٹ کو ختم کرنے اور قدرتی وسائل کی حفاظت کرکے پاکستانی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔

    سرکلر پلاسٹک انسٹیٹیوٹ کو ہاروڈ یونیورسٹی ایکسٹینشن اسکول کی طالبہ ملیحہ حبیب ڈیزائن کریں گی۔ہاروڈ یونیورسٹی کے جاری تعلیم ڈویژن کے کیپ اسٹون ایڈوائزر،، گلوبل ڈیولپمنٹ پریکٹس، پائیداری وائل اوبرائن نے کہاکہ اینگرو کی موجودگی اور سر کلر پلاسٹک انسٹیٹیوٹ کی جانب سے فراہم کی جانے والی مدد پاکستان کیلئے اہم شعبوں میں مواقع پیدا کرے گی جن میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون، قدرتی ماحولیاتی نظام کا تحفظ، ماحولیاتی اثرات میں کمی، اپنے شہریوں کی صحت اور بہبودمیں بہتری اور جدّت کے ذریعے معاشی ترقی شامل ہیں۔

    اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز کے چیف کمرشل آفیسر فہد خواجہ نے پاکستان کیلئے سرکولر پلاسٹک انسٹیٹیوٹ کی اہمیت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ طلباء، سرکاری عہدیداروں، پالیسی سازوں اور عوام کی بڑی تعدادسمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کوسرکولر معیشت کے تصور اور ری سائیکلنگ کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کیلئے پلیٹ فارم فراہم کرنا ضروری ہے۔

    اس سلسلے میں ایک ورچوئل تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جہانگیر پراچہ، کیپ اسٹون ایڈ وائزروائل اوبرائن، کیپ اسٹون انسٹرکٹر، گلوبل ڈیولپمنٹ پریکٹس اور جاری تعلیم کے ڈویژن کے جوڈتھ روڈریگ، اینگرو پولیمر کے چیف کمرشل آفیسر فہد خواجہ، ہاروڈ یونیورسٹی ایکسٹیشن اسکول کی گریجویٹ ملیحہ حبیب، اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز اور اینگرو فاؤنڈیشن کی مینجمنٹ موجودتھی۔